میر حسن کی مثنوی"سحر البیان" کے چند اشعار
دُرِ اشک سے چشم بھرنے لگی
خفا زندگانی سے ہونے لگی
بہانے سے جا جا کے سونے لگی
بہانے سے جا جا کے سونے لگی
نہ اگلا سا ہنسنا، نہ وہ بولنا
نہ کھانا، نہ پینا، نہ لب کھولنا
نہ کھانا، نہ پینا، نہ لب کھولنا
جہاں بیٹھنا، پھر نہ اٹھنا اسے
محبت میں دن رات گھٹنا اسے
محبت میں دن رات گھٹنا اسے
نہ کھانے کی سدھ اور نہ پینے کا ہوش
بھرا اس کے دل میں محبت کا جوش
بھرا اس کے دل میں محبت کا جوش
چمن پر نہ مائل، نہ گُل پر نظر
وہی سامنے صورت آٹھوں پہرپنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی "گلزارِ نسیم" کے کچھ اشعار
پُر آب وہ چشمِ حوض پر آئی
دیکھا تو وہ گُل ہَوا ہُوا ہے
کچھ اور ہی گل کھلا ہوا ہے
کچھ اور ہی گل کھلا ہوا ہے
گھبرائی کہ ہیں کدھر گیا گل؟
جھنجھلائی کہ کون دے گیا جُل؟
جھنجھلائی کہ کون دے گیا جُل؟
ہے ہے مرا پھول لے گیا کون؟
ہے ہے مجھے خار دے گیا کون؟مثنوی "زہرِ عشق" از نواب مرزا شوق کے اشعار
غمِ فرقت سے دل ہے بے آرام
شکل دکھلا دے کبریا کے لیے
بام پر آ ذرا خدا کے لیے
بام پر آ ذرا خدا کے لیے
اس محبت پہ ہو خدا کی مار
جس نے یوں کر دیا مجھے ناچار
جس نے یوں کر دیا مجھے ناچار
سارے الفت نے کھو دیئے اوسان
ورنہ یہ کہتی ہیں خدا کی شان
ورنہ یہ کہتی ہیں خدا کی شان
اب کوئی اس میں کیا دلیل کرے
جس کو چاہے خدا ذلیل کرےغالب کی مثنوی "قادر نامہ" کے اشعار
ہے نبی، مُرسل، پیمبر، رھنما
پیشوائے دیں کو کہتے ہیں امام
وہ رسول اللہ کا قائم مقام
وہ رسول اللہ کا قائم مقام
ہے صحابی دوست، خالص ناب ہے
جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے
جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے
آگ کا آتش اور آذر نام ہے
اور انگارے کا اخگر نام ہے
اور انگارے کا اخگر نام ہے
استخواں ہڈّی ہے اور ہے پوست کھال
سگ ہے کتّا اور گیدڑ ہے شغال
سگ ہے کتّا اور گیدڑ ہے شغال
ہندی میں عقرب کا بچھّو نام ہے
فارسی میں بھوں کا ابرو نام ہے
فارسی میں بھوں کا ابرو نام ہے
بھیڑیا گرگ اور بکری گوسپند
میش کا ہے نام بھیڑ اے خود پسنداقبال کی مثنوی "ساقی نامہ" کے اشعار
بتانِ عجم کے پجاری تمام
حقيقت خرافات ميں کھو گئی
يہ امت روايات ميں کھو گئی
يہ امت روايات ميں کھو گئی
لبھاتا ہے دل کو کلامِ خطيب
مگر لذتِ شوق سے بے نصيب
مگر لذتِ شوق سے بے نصيب
بياں اس کا منطق سے سلجھا ہوا
لغت کے بکھيڑوں ميں الجھا ہوا
لغت کے بکھيڑوں ميں الجھا ہوا
وہ صوفی کہ تھا خدمتِ حق ميں مرد
محبت ميں يکتا، حميت ميں فرد
محبت ميں يکتا، حميت ميں فرد
عجم کے خيالات ميں کھو گيا
يہ سالک مقامات ميں کھو گيا
يہ سالک مقامات ميں کھو گيا
بجھی عشق کی آگ، اندھير ہے
مسلماں نہيں، راکھ کا ڈھير ہے