Tuesday, November 15, 2011

مشہور اردو شعرا کا کلام

میر حسن کی مثنوی"سحر البیان" کے چند اشعار 



تپِ ہجر گھر دل میں کرنے لگی
دُرِ اشک سے چشم بھرنے لگی
خفا زندگانی سے ہونے لگی
بہانے سے جا جا کے سونے لگی
نہ اگلا سا ہنسنا، نہ وہ بولنا
نہ کھانا، نہ پینا، نہ لب کھولنا
جہاں بیٹھنا، پھر نہ اٹھنا اسے
محبت میں دن رات گھٹنا اسے
نہ کھانے کی سدھ اور نہ پینے کا ہوش
بھرا اس کے دل میں محبت کا جوش
چمن پر نہ مائل، نہ گُل پر نظر
وہی سامنے صورت آٹھوں پہر

پنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی "گلزارِ نسیم" کے کچھ اشعار



منہ دھونے جو آنکھ ملتی ہوئی
پُر آب وہ چشمِ حوض پر آئی
دیکھا تو وہ گُل ہَوا ہُوا ہے
کچھ اور ہی گل کھلا ہوا ہے
گھبرائی کہ ہیں کدھر گیا گل؟
جھنجھلائی کہ کون دے گیا جُل؟
ہے ہے مرا پھول لے گیا کون؟
ہے ہے مجھے خار دے گیا کون؟

مثنوی "زہرِ عشق" از نواب مرزا شوق کے اشعار



ہو یہ معلوم تم کو بعد سلام
غمِ فرقت سے دل ہے بے آرام
شکل دکھلا دے کبریا کے لیے
بام پر آ ذرا خدا کے لیے
اس محبت پہ ہو خدا کی مار
جس نے یوں کر دیا مجھے ناچار
سارے الفت نے کھو دیئے اوسان
ورنہ یہ کہتی ہیں خدا کی شان
اب کوئی اس میں کیا دلیل کرے
جس کو چاہے خدا ذلیل کرے

غالب کی مثنوی "قادر نامہ" کے اشعار



قادر اور اللہ اور یزداں، خدا
ہے نبی، مُرسل، پیمبر، رھنما
پیشوائے دیں کو کہتے ہیں امام
وہ رسول اللہ کا قائم مقام
ہے صحابی دوست، خالص ناب ہے
جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے
آگ کا آتش اور آذر نام ہے
اور انگارے کا اخگر نام ہے
استخواں ہڈّی ہے اور ہے پوست کھال
سگ ہے کتّا اور گیدڑ ہے شغال
ہندی میں عقرب کا بچھّو نام ہے
فارسی میں بھوں کا ابرو نام ہے
بھیڑیا گرگ اور بکری گوسپند
میش کا ہے نام بھیڑ اے خود پسند

اقبال کی مثنوی "ساقی نامہ" کے اشعار



تمدن، تصوف، شريعت، کلام
بتانِ عجم کے پجاری تمام
حقيقت خرافات ميں کھو گئی
يہ امت روايات ميں کھو گئی
لبھاتا ہے دل کو کلامِ خطيب
مگر لذتِ شوق سے بے نصيب
بياں اس کا منطق سے سلجھا ہوا
لغت کے بکھيڑوں ميں الجھا ہوا
وہ صوفی کہ تھا خدمتِ حق ميں مرد
محبت ميں يکتا، حميت ميں فرد
عجم کے خيالات ميں کھو گيا
يہ سالک مقامات ميں کھو گيا
بجھی عشق کی آگ، اندھير ہے
مسلماں نہيں، راکھ کا ڈھير ہے